باب 22

کمزوری ہی طاقت ہے

曲则全,枉则直,洼则盈,敝则新,少则得,多则惑。
是以圣人抱一为天下式。不自见故明,不自是故彰,不自伐故有功,不自矜故长。
夫唯不争,故天下莫能与之争。古之所谓曲则全者,岂虚言哉!诚全而归之。
جو جھکتا ہے، وہ سیدھا رہتا ہے۔ جو خالی ہوتا ہے، وہ بھر جاتا ہے۔ جو پرانا ہوتا ہے، وہ نیا ہو جاتا ہے۔ جو تھوڑا رکھتا ہے، وہ پاتا ہے۔ جو بہت رکھتا ہے، وہ گمراہ ہوتا ہے۔
اس لیے حکیم ایک ہی اصول کو پکڑتا ہے اور تمام دنیا کے لیے نمونہ بنتا ہے۔
وہ خود کو ظاہر نہیں کرتا، اس لیے روشن ہے۔ وہ خود کو صحیح نہیں سمجھتا، اس لیے نمایاں ہے۔ وہ خود کی تعریف نہیں کرتا، اس لیے کامیاب ہے۔ وہ خود کو بڑا نہیں سمجھتا، اس لیے پائیدار ہے۔
کیونکہ وہ مقابلہ نہیں کرتا، اس لیے دنیا میں کوئی اس سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔
قدیم کہاوت کہ "کمزوری ہی طاقت ہے" کیا جھوٹی ہے؟ واقعی، یہ سچ ہے، اور سب کچھ اس میں سمٹ آتا ہے۔

گہرا غور

یہ باب کس بارے میں ہے؟

یہ باب بتاتا ہے کہ حقیقی طاقت نرمی اور عاجزی میں ہے۔ جو جھکتا ہے، وہ ٹوٹنے سے بچتا ہے۔ جو کم چاہتا ہے، وہ زیادہ پاتا ہے۔ جو خود کو نمایاں نہیں کرتا، وہ حقیقت میں چمکتا ہے۔

اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟

میری زندگی میں، جب میں دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہوں، تو میں تھک جاتا ہوں۔ لیکن جب میں قبول کرتا ہوں کہ مجھے سب کچھ نہیں آتا، تو مجھے سکون اور ترقی ملتی ہے۔ عاجزی مجھے مضبوط بناتی ہے۔

آج مجھے کیا کرنا چاہیے؟

آج جب کوئی مجھ سے اختلاف کرے، تو میں جھگڑنے کے بجائے خاموشی سے سنوں گا اور اس کی بات کو قبول کروں گا۔

متعلقہ ابواب

میرا غور

یہ باب آپ کو کیا ترغیب دیتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟

اس باب کے بارے میں لاؤتزو سے پوچھیں مکمل چیٹ →