راستہ جو کہا جا سکے، وہ ابدی راستہ نہیں۔ نام جو لیا جا سکے، وہ ابدی نام نہیں۔ بے نام آسمان و زمین کا آغاز ہے۔ نام دار تمام چیزوں کی ماں ہے۔ پس ہمیشہ بے خواہش رہو، تاکہ اس کی باریکی دیکھ سکو۔ ہمیشہ خواہش مند رہو، تاکہ اس کی حدود دیکھ سکو۔ یہ دونوں ایک ہی ماخذ سے نکلے ہیں، مگر ان کے نام جدا ہیں۔ دونوں کو ایک ہی گہرائی کہتے ہیں۔ گہرائی سے بھی گہرتر، تمام رازوں کا دروازہ۔
گہرا غور
یہ باب کس بارے میں ہے؟
یہ باب بتاتا ہے کہ حقیقت کو الفاظ میں نہیں باندھا جا سکتا۔ جو کچھ ہم کہہ سکتے ہیں، وہ صرف ایک عارضی نام ہے۔ اصل حقیقت بے نام اور لامحدود ہے۔ خواہش سے ہم اس کی سطح دیکھتے ہیں، بے خواہشی سے ہم اس کی گہرائی میں جھانکتے ہیں۔ دونوں راستے ایک ہی ماخذ سے آتے ہیں۔
اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟
میری زندگی میں یہ مجھے سکھاتا ہے کہ میں ہر چیز کو لفظوں اور لیبلوں میں بند نہ کروں۔ جب میں کسی چیز کو ایک نام دیتا ہوں، تو میں اس کی اصل حقیقت سے محروم ہو جاتا ہوں۔ مجھے خاموشی اور بے خواہشی کے ذریعے گہرائی میں جھانکنا چاہیے۔
آج مجھے کیا کرنا چاہیے؟
آج ایک کام کروں گا: پانچ منٹ خاموش بیٹھوں گا، بغیر کسی خواہش یا سوچ کے، صرف سانس کو دیکھوں گا اور اس گہرائی کو محسوس کروں گا جو الفاظ سے پرے ہے۔
The Tao that can be trodden is not the enduring and unchanging Tao. The name that can be named is not the enduring and unchanging name. (Conceived of as) having no name, it is the Originator of heaven and earth; (conceived of as) having a name, it is the Mother of all things.
AI Modern
راستہ جو کہا جا سکے، وہ ابدی راستہ نہیں۔ نام جو لیا جا سکے، وہ ابدی نام نہیں۔ بے نام آسمان و زمین کا آغاز ہے۔ نام دار تمام چیزوں کی ماں ہے۔ پس ہمیشہ بے خواہش رہو، تاکہ اس کی باریکی دیکھ سکو۔ ہمیشہ خواہش مند رہو، تاکہ اس کی حدود دیکھ سکو۔ یہ دونوں ایک ہی ماخذ سے نکلے ہیں، مگر ان کے نام جدا ہیں۔ دونوں کو ایک ہی گہرائی کہتے ہیں۔ گہرائی سے بھی گہرتر، تمام رازوں کا دروازہ۔
میرا غور
یہ باب آپ کو کیا ترغیب دیتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟