یہ باب قدرت کے توازن کی وضاحت کرتا ہے، جہاں زیادتی کو کم کیا جاتا ہے اور کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔ انسان اس کے برعکس کرتے ہیں، جس سے عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ حکیم وہ ہے جو اپنی زیادتی کو بانٹتا ہے اور عاجزی سے کام لیتا ہے۔
Key Concepts
天之道
有余
不足
损补
Cite This Chapter
Laozi, Tao Te Ching, Chapter 77, "آسمانی توازن", laotzu.ai: https://www.laotzu.ai/ur/chapters/77/
Classical Chinese, translation, and AI reflection are shown separately; cite this chapter URL for references.
آسمان کا راستہ کمان چڑھانے جیسا ہے: جو اونچا ہے اسے نیچے کیا جاتا ہے، جو نیچا ہے اسے اونچا کیا جاتا ہے۔ جو زیادہ ہے اسے کم کیا جاتا ہے، اور جو کم ہے اسے پورا کیا جاتا ہے۔ آسمان کا راستہ زیادتی کو کم کر کے کمی کو پورا کرنا ہے۔ لیکن انسانوں کا راستہ اس کے برعکس ہے: وہ کمی کو اور کم کر کے زیادتی کو بڑھاتے ہیں۔ کون ہے جو اپنی زیادتی کو دنیا کے ساتھ بانٹ سکے؟ صرف وہی جو راستے پر چلتا ہے۔ اس لیے حکیم کام کرتا ہے لیکن اپنے کام کا دعویٰ نہیں کرتا، کامیابی حاصل کرتا ہے لیکن اس پر فخر نہیں کرتا، اور خود کو نمایاں نہیں کرنا چاہتا۔
گہرا غور
یہ باب کس بارے میں ہے؟
یہ باب قدرت کے توازن کی وضاحت کرتا ہے، جہاں زیادتی کو کم کیا جاتا ہے اور کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔ انسان اس کے برعکس کرتے ہیں، جس سے عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ حکیم وہ ہے جو اپنی زیادتی کو بانٹتا ہے اور عاجزی سے کام لیتا ہے۔
اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟
میری زندگی میں، جب میرے پاس کسی چیز کی زیادتی ہو، تو اسے بانٹنے کی بجائے میں مزید جمع کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ مجھے دوسروں سے دور کر دیتا ہے۔ آسمانی توازن اپنانے کا مطلب ہے کہ میں اپنی خوشی، وقت یا دولت کو بانٹوں۔
آج مجھے کیا کرنا چاہیے؟
آج، اپنی کسی بھی زیادتی (وقت، پیسہ، یا محبت) کو کسی ضرورت مند کے ساتھ بانٹیں، بغیر کسی توقع کے۔
May not the Way (or Tao) of Heaven be compared to the (method of) bending a bow? The (part of the bow) which was high is brought low, and what was low is raised up. (So Heaven) diminishes where there is superabundance, and supplements where there is deficiency. It is the Way of Heaven to diminish superabundance, and to supplement deficiency.
AI Modern
آسمان کا راستہ کمان چڑھانے جیسا ہے: جو اونچا ہے اسے نیچے کیا جاتا ہے، جو نیچا ہے اسے اونچا کیا جاتا ہے۔ جو زیادہ ہے اسے کم کیا جاتا ہے، اور جو کم ہے اسے پورا کیا جاتا ہے۔ آسمان کا راستہ زیادتی کو کم کر کے کمی کو پورا کرنا ہے۔ لیکن انسانوں کا راستہ اس کے برعکس ہے: وہ کمی کو اور کم کر کے زیادتی کو بڑھاتے ہیں۔ کون ہے جو اپنی زیادتی کو دنیا کے ساتھ بانٹ سکے؟ صرف وہی جو راستے پر چلتا ہے۔ اس لیے حکیم کام کرتا ہے لیکن اپنے کام کا دعویٰ نہیں کرتا، کامیابی حاصل کرتا ہے لیکن اس پر فخر نہیں کرتا، اور خود کو نمایاں نہیں کرنا چاہتا۔
میرا غور
یہ باب آپ کو کیا ترغیب دیتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟