باب 78

پانی کی طاقت

天下莫柔弱于水,而攻坚强者莫之能胜,以其无以易之。
弱之胜强,柔之胜刚,天下莫不知,莫能行。
是以圣人云:受国之垢是谓社稷主,受国不祥是为天下王。正言若反。
دنیا میں پانی سے زیادہ نرم اور کمزور کوئی چیز نہیں، لیکن جب بات مضبوط سے مضبوط چیز کو توڑنے کی ہو تو اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، کیونکہ اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ کمزوری کا طاقت پر غلبہ، اور نرمی کا سختی پر غلبہ، دنیا میں سب جانتے ہیں، لیکن کوئی اس پر عمل نہیں کرتا۔ اس لیے حکیم نے کہا: جو قوم کی گندگی قبول کرے وہ اس کا حاکم بنتا ہے، اور جو قوم کی مصیبتوں کو اٹھائے وہ دنیا کا بادشاہ بنتا ہے۔ سچی باتیں الٹی لگتی ہیں۔

گہرا غور

یہ باب کس بارے میں ہے؟

یہ باب پانی کی مثال سے سکھاتا ہے کہ ظاہری کمزوری میں بھی بہت طاقت ہو سکتی ہے۔ نرمی اور عاجزی دوسروں پر حقیقی اثر ڈالنے کا ذریعہ ہیں، اور قیادت کا راستہ خدمت اور برداشت سے گزرتا ہے۔

اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟

میری زندگی میں، میں اکثر طاقت کو سختی اور دباؤ سے جوڑتا ہوں، لیکن یہ باب مجھے یاد دلاتا ہے کہ نرمی اور برداشت زیادہ پائیدار اور مؤثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر تعلقات میں۔

آج مجھے کیا کرنا چاہیے؟

آج، کسی مسئلے یا تنازعے میں، غصے یا طاقت کے بجائے نرمی اور صبر سے کام لیں، اور دوسرے کی مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

متعلقہ ابواب

میرا غور

یہ باب آپ کو کیا ترغیب دیتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟

اس باب کے بارے میں لاؤتزو سے پوچھیں مکمل چیٹ →