باب 74
موت کا خوف اور انصاف
اصل
民不畏死,奈何以死惧之?若使民常畏死,而为奇者,吾得执而杀之,孰敢?
常有司杀者杀。夫代司杀者杀,是谓代大匠斫。夫代大匠斫者,希有不伤其手矣。
常有司杀者杀。夫代司杀者杀,是谓代大匠斫。夫代大匠斫者,希有不伤其手矣。
ترجمہ
اگر لوگ موت سے نہیں ڈرتے، تو انہیں موت کی دھمکی دینے کا کیا فائدہ؟ اگر لوگ ہمیشہ موت سے ڈرتے، اور کوئی باغی ہوتا، تو میں اسے پکڑ کر مار ڈالتا، پھر کون جرأت کرتا؟
ہمیشہ ایک قاتل ہوتا ہے جو مارتا ہے۔ جو اس قاتل کی جگہ لے کر مارتا ہے، وہ اس بڑھئی کی طرح ہے جو بڑھئی کے اوزار سے کام لیتا ہے۔ جو بڑھئی کے اوزار سے کام لیتا ہے، اس کے ہاتھ زخمی ہونے سے بچنا مشکل ہے۔
ہمیشہ ایک قاتل ہوتا ہے جو مارتا ہے۔ جو اس قاتل کی جگہ لے کر مارتا ہے، وہ اس بڑھئی کی طرح ہے جو بڑھئی کے اوزار سے کام لیتا ہے۔ جو بڑھئی کے اوزار سے کام لیتا ہے، اس کے ہاتھ زخمی ہونے سے بچنا مشکل ہے۔
گہرا غور
یہ باب کس بارے میں ہے؟
یہ باب انصاف اور سزا کے نظام پر تنقید کرتا ہے۔ جب لوگ موت سے بے خوف ہو جائیں تو سزا کا خوف بے معنی ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ قدرت کے انصاف میں مداخلت نہ کریں، ورنہ خود نقصان اٹھائیں گے۔
اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟
یہ باب مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں دوسروں کو سزا دینے یا ان پر غصہ نکالنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اگر میں انصاف کرنے کی کوشش کروں تو میں خود زخمی ہو سکتا ہوں۔ مجھے معاملات کو قدرت پر چھوڑ دینا چاہیے۔
آج مجھے کیا کرنا چاہیے؟
آج اگر کسی نے مجھے غصہ دلایا، تو سزا دینے یا بدلہ لینے کے بجائے خاموش رہیں اور صورتحال کو اپنے آپ حل ہونے دیں۔
متعلقہ ابواب
میرا غور
یہ باب آپ کو کیا ترغیب دیتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟