یہ باب بتاتا ہے کہ معاشرے میں جب ہم قابلیت اور نایاب چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں، تو لوگ لڑتے اور چوری کرتے ہیں۔ حکیم لوگوں کو سادہ اور بے خواہش رکھتا ہے، تاکہ وہ امن اور توازن میں رہیں۔
Key Concepts
无为
治国
欲望
简朴
Cite This Chapter
Laozi, Tao Te Ching, Chapter 3, "قابلوں کو اہمیت نہ دو", laotzu.ai: https://www.laotzu.ai/ur/chapters/3/
Classical Chinese, translation, and AI reflection are shown separately; cite this chapter URL for references.
قابلوں کو اہمیت نہ دو، تاکہ لوگ آپس میں نہ لڑیں۔ نایاب اشیاء کو قیمتی نہ سمجھو، تاکہ لوگ چوری نہ کریں۔ خواہش کی چیزوں کو نہ دکھاؤ، تاکہ لوگوں کے دل پریشان نہ ہوں۔ اس لیے حکیم کی حکمرانی میں، وہ لوگوں کے دلوں کو خالی کرتا ہے، ان کے پیٹ بھرتا ہے، ان کی خواہشوں کو کمزور کرتا ہے، ان کی ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو علم اور خواہش سے پاک رکھتا ہے، اور عقلمندوں کو جرات نہیں دیتا کہ وہ عمل کریں۔ بغیر عمل کے عمل کرو، تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔
گہرا غور
یہ باب کس بارے میں ہے؟
یہ باب بتاتا ہے کہ معاشرے میں جب ہم قابلیت اور نایاب چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں، تو لوگ لڑتے اور چوری کرتے ہیں۔ حکیم لوگوں کو سادہ اور بے خواہش رکھتا ہے، تاکہ وہ امن اور توازن میں رہیں۔
اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟
میری زندگی میں یہ مجھے سکھاتا ہے کہ میں دوسروں کی قابلیت یا دولت سے متاثر نہ ہوں۔ مجھے اپنے دل کو خالی رکھنا چاہیے اور سادگی میں خوش رہنا چاہیے۔ خواہشوں سے پاک ہو کر میں امن پا سکتا ہوں۔
آج مجھے کیا کرنا چاہیے؟
آج ایک کام کروں گا: میں اپنی خواہشوں کی فہرست بناؤں گا اور ان میں سے ایک خواہش کو چھوڑ دوں گا، تاکہ میں سادگی اور امن کی طرف بڑھ سکوں۔
Not to value and employ men of superior ability is the way to keep the people from rivalry among themselves; not to prize articles which are difficult to procure is the way to keep them from becoming thieves; not to show them what is likely to excite their desires is the way to keep their minds from disorder. Therefore the sage, in the exercise of his government, empties their minds, fills their bellies, weakens their wills, and strengthens their bones.
AI Modern
قابلوں کو اہمیت نہ دو، تاکہ لوگ آپس میں نہ لڑیں۔ نایاب اشیاء کو قیمتی نہ سمجھو، تاکہ لوگ چوری نہ کریں۔ خواہش کی چیزوں کو نہ دکھاؤ، تاکہ لوگوں کے دل پریشان نہ ہوں۔ اس لیے حکیم کی حکمرانی میں، وہ لوگوں کے دلوں کو خالی کرتا ہے، ان کے پیٹ بھرتا ہے، ان کی خواہشوں کو کمزور کرتا ہے، ان کی ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو علم اور خواہش سے پاک رکھتا ہے، اور عقلمندوں کو جرات نہیں دیتا کہ وہ عمل کریں۔ بغیر عمل کے عمل کرو، تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔
میرا غور
یہ باب آپ کو کیا ترغیب دیتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟